پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے برتھ سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کریں؟
پاکستان میں بچے کی پیدائش کا اندراج ایک بنیادی, قانونی اور شہری ذمہ داری ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر بچے کا مستقبل میں تعلیمی داخلہ، شناختی دستاویزات، پاسپورٹ، ب فارم اور دیگر سرکاری سہولیات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ماضی میں یہ عمل پیچیدہ اور وقت طلب تھا، مگر اب نادرا نے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے اس پورے نظام کو آسان، تیز اور شفاف بنا دیا ہے۔ اب ہم اپنے بچے کی پیدائش کا اندراج متعلقہ رجسٹرنگ اتھارٹی، یعنی یونین کونسل، یونین کمیٹی، میونسپل کمیٹی یا ٹاؤن کمیٹی میں نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے کروا سکتے ہیں۔
اس آرٹیکل میں ہم پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کے مکمل طریقے, فیس کی تفصیلات اور ادائیگی کے طریقے تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔
برتھ سرٹیفکیٹ کی اہمیت اور قانونی حیثیت
برتھ سرٹیفکیٹ کسی بھی بچے کی پہلی سرکاری شناخت ہوتی ہے۔ یہ دستاویز اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ بچہ کب، کہاں اور کن والدین کے ہاں پیدا ہوا۔ پاکستان میں یونین کونسل، یونین کمیٹی، میونسپل کمیٹی یا ٹاؤن کمیٹی پیدائش کے اندراج کی مجاز اتھارٹیز ہیں، جبکہ نادرا اس ڈیٹا کو قومی شناختی نظام سے جوڑتا ہے۔ ہم اگر وقت پر بچے کا اندراج کروا لیں تو بعد میں کسی جرمانے، اضافی فیس یا قانونی پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں۔
پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے اندراج کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ والدین کو بچے کے برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے لمبی قطاروں، غیر ضروری کاغذی کارروائی اور ایجنٹوں پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ تمام معلومات براہ راست نادرا کے سسٹم میں جاتی ہیں اور متعلقہ رجسٹرنگ اتھارٹی تک پہنچتی ہیں۔
پاک آئی ڈی ایپ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے
پاک آئی ڈی نادرا کی آفیشل موبائل ایپ ہے جو شہریوں کو شناخت سے متعلق مختلف خدمات آن لائن فراہم کرتی ہے۔ ہم اس ایپ کے ذریعے ب فارم، شناختی کارڈ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور برتھ رجسٹریشن جیسی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔
برتھ سرٹیفکیٹ کے لیے یہ ایپ سول رجسٹریشن سروسز کے تحت کام کرتی ہے۔ اس میں صوبائی قوانین کو مدنظر رکھا جاتا ہے، اسی لیے فیس اور کیٹیگری صوبے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
پاک آئی ڈی ایپ سے برتھ سرٹیفکیٹ بنانے کا مکمل طریقہ
پہلا مرحلہ: موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ اور لاگ اِن
سب سے پہلے نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ اپنے موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کریں۔ ایپ انسٹال کر نے کے بعد اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کریں اور لاگ اِن کریں۔
دوسرا مرحلہ: سروس اور صوبے کا انتخاب
لاگ اِن ہونے کے بعد سول رجسٹریشن سروسز منتخب کریں۔ اس کے بعد متعلقہ صوبہ منتخب کریں اور برتھ رجسٹریشن والے آپشن پر کلک کریں۔
تیسرا مرحلہ: بچے کا انتخاب یا نیا اندراج
اگلی اسکرین پر بچوں کی فہرست نظر آئے گی۔ اگر مطلوبہ بچہ فہرست میں موجود ہو تو اس پر کلک کریں۔ اگر بچہ فہرست میں موجود نہ ہو تو اسکرین کے آخر میں موجود خالی باکس پر ٹک مارک کرکے نیکسٹ پر کلک کریں۔
چوتھا مرحلہ: درخواست کی بنیادی تفصیلات
اب ایپلیکیشن ڈیٹیلز والی اسکرین کھلے گی۔ یہاں متعلقہ ضلع، تحصیل اور یونین کونسل منتخب کریں۔ اس کے بعد بچے کی کیٹیگری اور تاریخِ پیدائش درج کریں۔ صوبائی قوانین کے تحت فیس معلوم کرنے کے لیے کیلکولیٹ فیس کے بٹن پر کلک کریں۔ درخواست کی فیس ظاہر ہو جائے گی۔ فیس دیکھنے کے بعد ہم اسٹارٹ ایپلیکیشن کے بٹن پر کلک کر کے باقاعدہ درخواست شروع کرتے ہیں۔
پانچواں مرحلہ: بچے کی تفصیلات
چائلڈ ڈیٹیلز والی اسکرین پر اگر بچے کا ریکارڈ نادرا میں پہلے سے موجود ہو تو یس پر کلک کر کے بے فارم یا شناختی کارڈ نمبر درج کریں۔ اگر بچے کا ریکارڈ پہلے سے موجود نہ ہو تو نو پر کلک کر کے بچے کا نام، تاریخ پیدائش، جنس اور جائے پیدائش خود درج کریں اور نیکسٹ پر کلک کریں۔
چھٹا مرحلہ: والدین کی معلومات
بچے کی تفصیلات کے بعد والدین کی معلومات کا مرحلہ آتا ہے۔ پیرنٹس ڈیٹیلز کی اسکرین پر والد اور والدہ کے شناختی کارڈ نمبرز، نام اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کریں اور اور نیکسٹ پر کلک کریں۔
ساتواں مرحلہ: اضافی خاندانی معلومات
اب ایڈیشنل ڈیٹیلز کی اسکرین ظاہر ہو گی، جہاں دادا اور دادی یا نانی سے متعلق معلومات درج کریں اور نیکسٹ پر کلک کریں۔
آٹھواں مرحلہ: بچے کی عمر کے مطابق تصدیقی عمل
اس کے بعد بچے کی عمر کے مطابق بایومیٹرک کریں۔ اگر بچے کی عمر تین سال سے کم ہے تو کسی تصویر یا بایومیٹرک کی ضرورت نہیں ہو گی۔ اگر بچے کی عمر تین سال سے زیادہ اور دس سال سے کم ہے تو بچے کی تصویر لینا لازم ہوگا۔ اگر بچے کی عمر دس سال سے زیادہ اور اٹھارہ سال سے کم ہے تو تصویر کے ساتھ فنگر پرنٹس بھی اسکین کرنا ہوں گے۔ یہ نظام اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ بچے کی شناخت مستقبل میں درست اور محفوظ رہے۔
نواں مرحلہ: بچے کی تصویر حاصل کرنا
چائلڈ فوٹوگراف والی اسکرین پر جا کر کیپچر فوٹو کے بٹن پر کلک کریں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے کا چہرہ اسکرین پر موجود دائرے کے اندر ہو، روشنی مناسب ہو اور تصویر دھندلی نہ ہو۔ تصویر مکمل ہونے کے بعد ٹک مارک اور پھر سیو کے بٹن پر کلک کریں اور نیکسٹ پر کلک کریں۔
دسواں مرحلہ: فنگر پرنٹس کی تصدیق
اگر فنگر پرنٹس درکار ہوں تو کیپچر فنگر پرنٹس کی اسکرین ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں اسٹارٹ اسکین پر کلک کریں اور ایپ کی ہدایات کے مطابق تمام انگلیوں کے فنگر پرنٹس اسکین کریں اور نیکسٹ پر کلک کریں۔
گیارھواں مرحلہ: پتے کی معلومات
اس مرحلے پر اپلیکنٹ ایڈریس ڈیٹیلز کی اسکرین آتی ہے۔ یہاں مستقل یا موجودہ پتہ منتخب کریں جو بچے کے برتھ سرٹیفکیٹ پر پرنٹ کروانا چاہتے ہیں، اور نیکسٹ پر کلک کریں۔
بارھواں مرحلہ: فیس کی ادائیگی
اب پیمنٹ آپشنز کی اسکرین کھلے گی۔ یہاں فیس کی ادائیگی کے لیے ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، راست، ایزی پیسہ، جیز کیش یا ای سہولت کے ذریعے ادائیگی کر سکتے ہیں۔ ادائیگی مکمل ہونے کے بعد نیکسٹ پر کلک کریں اور درخواست آخری مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔
تیرھواں مرحلہ: معلومات کا جائزہ اور درخواست جمع کروانا
ریویو ڈیٹیلز کی اسکرین پر فراہم کردہ تمام معلومات کا بغور جائزہ لیں۔ ریویو ڈیٹا پر کلک کریں اور سبمٹ پر کلک کردیں۔
چودھواں مرحلہ: درخواست کی تکمیل اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنا
درخواست کامیابی سے جمع ہونے کا پیغام ظاہر ہو جائے گا۔ نادرا آپ کی درخواست پروسیس کرے گا اور بچے کی پیدائش متعلقہ رجسٹرنگ اتھارٹی میں درج ہو جائے گی۔ اور بعد ازاں ایپ میں جا کر برتھ سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا، جو شناختی والٹ میں محفوظ ہو جائے گا۔
حتمی نتیجہ
پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ایک جدید، محفوظ اور آسان طریقہ ہے۔ ہم اگر درست معلومات فراہم کریں اور تمام مراحل توجہ سے مکمل کریں تو بغیر کسی پریشانی کے اپنے بچے کا برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف وقت کی بچت ہے بلکہ ایک شفاف سرکاری نظام کی مثال بھی ہے۔ نادرا کا یہ اقدام شہریوں کے لیے سہولت اور اعتماد کا باعث بن رہا ہے، اور ہمیں چاہیے کہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
عمومی سوالات
کیا پاک شناختی ایپ کے ذریعے حاصل کیا گیا برتھ سرٹیفکیٹ قانونی طور پر قابل قبول ہوتا ہے؟
ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ پاک شناختی ایپ کے ذریعے جاری ہونے والا برتھ سرٹیفکیٹ نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک ہوتا ہے، اس لیے یہ مکمل طور پر قانونی اور مستند تصور کیا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ تعلیمی اداروں، پاسپورٹ آفس، بے فارم کے اجرا، اور دیگر سرکاری و نجی اداروں میں قابل قبول ہوتا ہے کیونکہ اس کی تصدیق نادرا کے نظام سے کی جا سکتی ہے۔
اگر بچے کی پیدائش کو کافی عرصہ گزر چکا ہو تو کیا اب بھی آن لائن رجسٹریشن ممکن ہے؟
ہم والدین کو یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ اگر بچے کی پیدائش کو کافی وقت گزر چکا ہو تب بھی پاک شناختی ایپ کے ذریعے برتھ رجسٹریشن ممکن ہوتی ہے۔ البتہ ایسی صورت میں صوبائی قوانین کے مطابق فیس میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بعض اضافی معلومات درکار ہو سکتی ہیں۔ ایپ خود بخود تاخیر کی بنیاد پر فیس کا حساب لگا دیتی ہے۔
اگر درخواست جمع کروانے کے بعد معلومات میں غلطی سامنے آ جائے تو کیا کیا جائے؟
اگر درخواست سبمٹ ہونے کے بعد کسی غلطی کا علم ہو جائے تو فوری طور پر متعلقہ یونین کونسل یا نادرا ہیلپ لائن سے رابطہ کرنا چاہیے۔ بعض صورتوں میں تصحیح کی درخواست دی جا سکتی ہے، تاہم ہم ہمیشہ یہی مشورہ دیتے ہیں کہ سبمٹ کرنے سے پہلے تمام معلومات کو اچھی طرح چیک کرلیں تاکہ بعد میں مشکلات پیش نہ آئیں۔
کیا ایک ہی موبائل فون سے ایک سے زیادہ بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ بنوائے جا سکتے ہیں؟
ہمیں یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ ایک ہی پاک شناختی ایپ اکاؤنٹ کے ذریعے ایک سے زیادہ بچوں کی برتھ رجسٹریشن کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ والدین کی معلومات نادرا کے ریکارڈ میں درست ہوں۔ ہر بچے کے لیے الگ درخواست جمع کروائی جاتی ہے اور ہر درخواست کا ریکارڈ الگ محفوظ ہوتا ہے۔
اگر بچے کے والدین میں سے کسی کا شناختی کارڈ بلاک یا ایکسپائر ہو تو کیا درخواست دی جا سکتی ہے؟
ایسی صورت میں برتھ سرٹیفکیٹ کی درخواست میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں کیونکہ نادرا والدین کی شناخت کی تصدیق لازمی سمجھتا ہے۔ ہم والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ پہلے اپنا شناختی کارڈ درست اور فعال کروائیں، اس کے بعد بچے کی برتھ رجسٹریشن کی درخواست دیں تاکہ عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔
کیا برتھ سرٹیفکیٹ کی پرنٹ شدہ کاپی بھی حاصل کی جا سکتی ہے؟
پاک شناختی ایپ کے ذریعے ڈاؤن لوڈ کیا گیا برتھ سرٹیفکیٹ ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہوتا ہے، جسے ہم اپنی سہولت کے مطابق پرنٹ بھی کر سکتے ہیں۔ چونکہ اس سرٹیفکیٹ پر نادرا کی تصدیق موجود ہوتی ہے، اس لیے اس کی پرنٹ شدہ کاپی بھی قابل قبول سمجھی جاتی ہے۔
English Version: How to Apply for Birth Certificate via Pak Identity App?