شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ بنوانے کا مکمل طریقہ 2026

شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ بنوانے کا مکمل طریقہ 2026

شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ: پاکستان میں قومی شناختی کارڈ ہر شہری کی بنیادی شناخت ہے۔ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے بغیر بینک اکاؤنٹ کھولنا، سم حاصل کرنا، سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دینا، جائیداد کی خرید و فروخت کرنا یا ووٹ کا حق استعمال کرنا ممکن نہیں۔ اس کے باوجود ملک میں ایسے شہری موجود ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر اب تک شناختی کارڈ حاصل نہیں کر سکے۔ ان میں بڑی تعداد خواتین کی ہے، جبکہ کچھ پسماندہ اضلاع میں مرد بھی اس مسئلے کا شکار ہیں۔

اسی پس منظر میں شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے تاکہ وہ شہری بھی قومی شناختی نظام کا حصہ بن سکیں جن کے پاس مقامی حکومت کا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ موجود نہیں۔ ہم اس تفصیلی آرٹیکل میں اس نئی سہولت کی مکمل وضاحت کریں گے، اس کی شرائط بیان کریں گے، مختلف کیٹیگریز کے لیے طریقہ کار سمجھائیں گے اور ان تمام سوالات کا جواب دیں گے جو عام طور پر ذہن میں آتے ہیں۔

شناختی کارڈ کی اہمیت اور رجسٹریشن کی موجودہ صورتحال

پاکستان میں قومی شناختی نظام کو دنیا کے جدید ترین نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ نظام نادرا کے زیر انتظام کام کرتا ہے، جو شہریوں کا ڈیٹا محفوظ طریقے سے جمع اور منظم کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بالغ آبادی کی بڑی اکثریت رجسٹرڈ ہو چکی ہے، مگر ایک چھوٹا مگر اہم طبقہ اب بھی اس سہولت سے محروم ہے۔

شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ

پاکستان میں اکثر دیہی علاقوں میں پیدائش کا اندراج بروقت نہیں ہوتا۔ والدین بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہیں بنواتے۔ بعد میں یہی کمی شناختی کارڈ کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اسی خلا کو پر کرنے کے لیے شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ کی مشروط سہولت فراہم کی گئی ہے۔

شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ کی قانونی بنیاد

یہ سہولت کسی وقتی اعلان کا نتیجہ نہیں بلکہ قانونی دائرہ کار میں دی گئی ہے۔ نادرا کو قانون کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ مخصوص حالات میں متبادل تصدیقی طریقہ کار اپناتے ہوئے رجسٹریشن مکمل کرے۔ اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے محدود مدت کے لیے یہ سہولت متعارف کی گئی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ عام پالیسی نہیں بلکہ ایک خصوصی رعایت ہے۔ اس کا مقصد رجسٹریشن میں اضافہ کرنا اور غیر رجسٹرڈ شہریوں کو قومی ریکارڈ میں شامل کرنا ہے۔ اس لیے ہر درخواست دہندہ کو مقررہ شرائط پوری کرنا لازمی ہوگا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہو سکتی ہے

شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ ہر فرد کو خودکار طور پر نہیں ملے گا۔ اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ درخواست دہندہ کی شناخت نادرا کے موجودہ ریکارڈ سے منسلک ہو سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ خاندان کے دیگر افراد پہلے سے رجسٹرڈ ہوں اور بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے رشتہ ثابت کیا جا سکے۔

ہم یہاں مختلف کیٹیگریز کے مطابق وضاحت کرتے ہیں تاکہ ہر شخص اپنی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔

شادی شدہ خواتین کے لیے طریقہ کار

اگر کوئی خاتون اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی ہے اور شادی شدہ ہے مگر اس کے پاس پیدائش سرٹیفکیٹ موجود نہیں، تو وہ شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔ اس صورت میں مستند نکاح نامہ لازمی ہوگا جو مقامی حکومت یا یونین کونسل سے تصدیق شدہ ہو۔

اس کے ساتھ والدین میں سے کسی ایک کا قومی شناختی کارڈ اور شوہر کا شناختی کارڈ موجود ہونا ضروری ہے۔ مزید برآں والد یا والدہ اور شوہر میں سے متعلقہ افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مرحلہ حساس ہے، اس لیے درخواست دیتے وقت متعلقہ افراد کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔

غیر شادی شدہ خواتین کے لیے شرائط

اگر خاتون غیر شادی شدہ ہے اور عمر اٹھارہ سال یا اس سے زائد ہے، تو اس کے لیے کم از کم والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ موجود ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد والد یا والدہ کی بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے رشتہ ثابت کیا جائے گا۔

ہم مشورہ دیتے ہیں کہ درخواست سے پہلے تمام دستاویزات کی نقول تیار رکھیں اور خاندان کے رجسٹرڈ فرد کو ساتھ لے کر جائیں تاکہ عمل میں تاخیر نہ ہو۔

بالغ مرد درخواست گزار کے لیے شرائط

چوبیس سال یا اس سے زائد عمر کے مرد اگر پیدائش سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے شرط ہے کہ والدین میں سے کم از کم ایک رجسٹرڈ ہو۔ اس کے علاوہ کم از کم ایک بہن یا بھائی کا بھی نادرا میں اندراج ہونا ضروری ہے۔

یہ شرط اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ خاندانی تعلق کی تصدیق مضبوط بنیاد پر ہو سکے۔ والد یا والدہ کی بائیومیٹرک تصدیق اس عمل کا لازمی حصہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر کیسز میں خاندان کے دیگر افراد کا رجسٹرڈ ہونا عمل کو آسان بنا دیتا ہے۔

بائیومیٹرک تصدیق کا کردار

شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ کے اجرا میں بائیومیٹرک تصدیق مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ نادرا کا نظام فنگر پرنٹس اور دیگر بائیومیٹرک ڈیٹا کے ذریعے رشتہ اور شناخت کی تصدیق کرتا ہے۔

اگر والدین یا شوہر وفات پا چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو، تو مجاز افسر ریکارڈ کی بنیاد پر بائیومیٹرک تصدیق سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ خودکار نہیں ہوتا بلکہ مکمل جانچ پڑتال کے بعد کیا جاتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ شفافیت اور درستگی کے لیے یہ مرحلہ ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط اندراج یا دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔

فیس اور کارڈ کی نوعیت

اس خصوصی سہولت کے تحت نارمل کیٹیگری میں نان اسمارٹ قومی شناختی کارڈ بغیر فیس جاری کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ تمام شرائط پوری ہوں۔ یہ ایک اہم ریلیف ہے کیونکہ مالی مسائل بھی بعض شہریوں کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں۔

البتہ اگر کوئی شہری اسمارٹ کارڈ یا ایگزیکٹو سروس کا انتخاب کرتا ہے تو اس پر مقررہ فیس لاگو ہو سکتی ہے۔ ہم ہمیشہ یہی مشورہ دیتے ہیں کہ پہلے بنیادی رجسٹریشن مکمل کی جائے، بعد میں اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔

ناقابلِ تبدیلی معلومات کی اہمیت

ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد ولدیت، تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش جیسی بنیادی معلومات ناقابلِ تنسیخ ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بعد میں ان میں تبدیلی انتہائی مشکل یا ناممکن ہو سکتی ہے۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ درخواست جمع کرواتے وقت ہر معلومات کو بغور پڑھیں۔ اگر کسی نام کی ہجے غلط ہو یا تاریخ پیدائش میں فرق ہو تو اسی وقت درستگی کروائیں۔ ایک چھوٹی سی غلطی مستقبل میں بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

مرحلہ وار عملی رہنمائی

سب سے پہلے ہم قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہاں جا کر ٹوکن حاصل کیا جاتا ہے۔ درخواست فارم کی معلومات دی جاتی ہیں۔ متعلقہ خاندان کے فرد کی بائیومیٹرک تصدیق کرائی جاتی ہے۔ افسر دستاویزات کی جانچ کرتا ہے اور ریکارڈ کا موازنہ کرتا ہے۔

اگر تمام شرائط پوری ہوں تو درخواست منظور ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کارڈ کی تیاری کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ مقررہ مدت کے اندر کارڈ فراہم کر دیا جاتا ہے یا ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دی جاتی ہے۔

ہم مشورہ دیتے ہیں کہ مرکز جانے سے پہلے ضروری افراد کو آگاہ کریں تاکہ بائیومیٹرک تصدیق کے وقت کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

عام سوالات اور اہم وضاحتیں

اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ سہولت ہمیشہ کے لیے ہے۔ جواب یہ ہے کہ یہ محدود مدت کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔ اس لیے ہم سب کو چاہیے کہ مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے درخواست دے دیں۔

بعض افراد پوچھتے ہیں کہ کیا جعلی بیان دے کر کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نادرا کا نظام جدید ڈیٹا بیس اور بائیومیٹرک تصدیق پر مبنی ہے۔ غلط معلومات دینے کی صورت میں قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

کچھ لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اگر خاندان کا کوئی فرد رجسٹرڈ نہ ہو تو کیا ہوگا۔ ایسی صورت میں پہلے خاندان کے کسی فرد کی رجسٹریشن کرانا ضروری ہوگا تاکہ خاندانی ریکارڈ قائم ہو سکے۔

معاشرتی اور قومی اہمیت

شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ کی سہولت صرف ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ سماجی شمولیت کا اہم قدم ہے۔ اس سے خواتین، دیہی آبادی اور محروم طبقات کو قومی شناخت ملتی ہے۔ جب ہر شہری رجسٹرڈ ہوگا تو ووٹنگ لسٹ، سماجی بہبود پروگرام اور دیگر سرکاری سہولیات تک رسائی بہتر ہوگی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ قومی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں بلکہ شہری حقوق کی بنیاد ہے۔ یہی کارڈ ہمیں ریاستی نظام سے جوڑتا ہے اور ہماری قانونی حیثیت کو مضبوط کرتا ہے۔

نتیجہ

شناختی کارڈ بغیر پیدائش سرٹیفکیٹ ان شہریوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے جو برسوں سے رجسٹریشن کے مسئلے کا شکار تھے۔ یہ سہولت قانونی دائرے میں، واضح شرائط کے ساتھ اور بائیومیٹرک تصدیق کی بنیاد پر فراہم کی جا رہی ہے۔

ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ درست معلومات فراہم کریں، تمام دستاویزات مکمل کریں اور مقررہ مدت کے اندر درخواست جمع کروائیں۔ درست رجسٹریشن نہ صرف ہماری ذاتی ضرورت ہے بلکہ قومی مفاد کا حصہ بھی ہے۔

اگر ہم بروقت اقدام کریں تو ہم نہ صرف اپنی شناخت کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی درست ریکارڈ کی بنیاد قائم کرتے ہیں۔ یہی ذمہ دار شہری ہونے کی پہچان ہے۔

English Version: NADRA CNIC Without Birth Certificate: New Update 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *